السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الستر في الغسل عند الناس باب: لوگوں کی موجودگی میں غسل کرتے وقت پردہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 956
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ نُفَيْلٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى ⦗٣٠٦⦘ رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ حَيِيُّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسِّتْرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ "،.حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو کھلی جگہ غسل کرتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ «حَيِيٌّ سِتِّيرٌ» ”حیا والا اور پردہ پوش“ ہے، وہ حیا اور پردے کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب کوئی غسل کرے تو وہ چھپ جائے۔“