السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: استحباب النزول في الرمي في اليومين الآخرين باب: آخری دو دنوں میں رمی کے دوران سواری سے اترنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9559
وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ ابْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَمِّهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْأَشْيَبِ أَيْضًا تَنْصِيصٌ عَلَى الثَّلَاثَةِ، وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُشْبِهُ إِذَا رَمَى يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا لِاتِّصَالِ رُكُوبِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنْ يَرْمِيَ يَوْمَ النَّفْرِ رَاكِبًا لِاتِّصَالِ رُكُوبِهِ بِالصَّدْرِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا قَوْلُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ.حافظ ثناء اللہ
ایضاً
اور اس حدیث کو عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد اور چچا سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے «الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ» ”تین ایام“ کا ذکر نہیں کیا اور أشیب کی روایت میں تین کی صراحت بھی نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب «يَوْمَ النَّحْرِ» ”قربانی کے دن“ انہوں نے سوار ہو کر رمی کی، اس لیے کہ مزدلفہ سے ان کی سواری مسلسل جاری تھی، تو اس کے مشابہ یہ ہے کہ «يَوْمَ النَّفْرِ» ”کوچ کے دن“ بھی سوار ہو کر رمی کریں، اس لیے کہ ان کی سواری واپسی (کوچ) سے متصل ہوتی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔