السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: رمي جمرة العقبة راكبا باب: سوار ہو کر جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9555
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا جَدِّي عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ يَسْتُرُهُ فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ فَقَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَازْدَحَمَ النَّاسُ، فَقَالَ ⦗٢١٣⦘ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن عمرو اپنی والدہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو وادی کے درمیان سے جمروں کی رمی کرتے دیکھا اور آپ ﷺ سوار تھے، میں نے اس آدمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، لوگوں نے جب بھیڑ کی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور جب تم جمرہ کو مارو تو چھوٹی کنکری مارو۔“