السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: رمي جمرة العقبة راكبا باب: سوار ہو کر جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9554
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ رَاكِبًا وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ مِنْ رَمْيِ النَّاسِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَمَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ فَلْيَرْمِهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " قَالَتْ: وَرَأَيْتُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ حَجَرًا، قَالَتْ: فَرَمَى، وَرَمَى النَّاسُ، ثُمَّ انْصَرَفَ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن عمرو اپنی والدہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمرہ کے پاس سوار دیکھا اور آپ کے پیچھے ایک آدمی ان کو لوگوں کی رمی سے بچا رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، جو جمرہ کو مارے وہ چھوٹی کنکریاں مارے“، کہتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان پتھر دیکھے، آپ ﷺ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی، پھر آپ ﷺ لوٹ آئے۔