حدیث نمبر: 9550
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَكِيمِ بْنِ الْأَزْهَرِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، ثُمَّ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا وَعَمَلًا مَشْكُورًا فَسَأَلْتُهُ عَمَّا صَنَعَ، فَقَالَ: " حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ وَيَقُولُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ مِثْلَ مَا قُلْتُ " عَبْدُ اللهِ بْنُ حَكِيمٍ ضَعِيفٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابو اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کو دیکھا، وہ وادی میں اترے پھر جمرہ کو سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر، اے اللہ! اس کو مقبول حج بنا دے اور گناہوں کو معاف فرما دے اور عمل کی قدر فرما“، تو جو انہوں نے کہا: میں نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو کہنے لگے کہ میرے والد رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ نبی ﷺ جمرہ کو یہیں سے مارتے تھے اور جب بھی کنکری مارتے اسی طرح کہتے جیسے میں نے کہا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9550
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»