السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: رمي الجمرة من بطن الوادي، وكيفية الوقوف للرمي باب: وادی کے نشیب سے جمرہ کی رمی کرنے اور رمی کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 9549
وَحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ مِنْ جَمْعٍ فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، ثُمَّ قَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي، نَاوِلْنِي سَبْعَةَ أَحْجَارٍ " فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ: " اللهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا " ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَنَعَ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ”میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع سے لوٹا تو وہ تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو مارا، پھر وادی کے درمیان میں ہوئے اور کہا: اے میرے بھتیجے! مجھے سات پتھر پکڑاؤ، تو انھوں نے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو کہا: اے اللہ! اس حج کو مقبول بنا لے اور گناہوں کو معاف فرما دے۔ پھر کہا: میں نے اسی طرح کرتے ہوئے اس ذات ﷺ کو دیکھا جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی۔“