السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الإيضاع في وادي محسر باب: وادیِ محسر میں سواری تیز دوڑانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9529
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ ⦗٢٠٦⦘ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا نَفَرَتْ غَدَاةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَإِذَا جَاءَتْ بَطْنَ مُحَسِّرٍ قَالَتْ لِي " ازْجُرِي الدَّابَّةَ وَارْفَعِيهَا "، قَالَتْ: فَزَجَرْتُهَا يَوْمًا، فَوَقَعَتِ الدَّابَّةُ عَلَى يَدَيْهَا وَعَلَيْهَا الْهَوْدَجُ ثُمَّ زَجَرْتُهَا الثَّانِيَةَ فَرَفَعَهَا اللهُ فَلَمْ يَضُرَّهَا شَيْئًا وَكَانَتْ تَرْفَعُ دَابَّتَهَا حَتَّى تَقْطَعَ بَطْنَ مُحَسِّرٍ وَتَدْخُلَ بَطْنَ مِنًى وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مزدلفہ کی صبح جب سواری کو بھگاتیں، جب وہ وادیٔ محسر کے وسط میں پہنچتیں تو مجھے فرماتیں: سواری کو جھڑکو (بھگاؤ) اور اس کو بلند کرو۔ (اُم علقمہ) فرماتی ہیں: میں نے ایک دن سواری کو ڈانٹا تو سواری... گر گئی اور کجاوہ ان کے اوپر آ گیا۔ پھر دوسری دفعہ میں نے سواری کو ڈانٹا تو اللہ نے... بلند کر دیا اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا۔ وہ اپنی سواری کو اٹھاتی (بلند کرتی) تھیں حتیٰ کہ وادیٔ محسر کو عبور کر کے منیٰ کی وادی (وسط) میں داخل ہو جاتی تھیں۔