السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الإيضاع في وادي محسر باب: وادیِ محسر میں سواری تیز دوڑانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9527
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ قَالَا: أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الْمُسْتَهِلِّ الْمَعْرُوفُ بِدَرَّانٍ بِحَلَبَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي مَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُوضِعُ وَيَقُولُ: ".حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سواری کو بھگا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”تیری طرف دوڑتے ہیں پریشان و اداس اور اس کے مضبوط لوگ، اس کا دین عیسائیوں کے دین کے مخالف ہے۔“
اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما بہت تیز دوڑایا کرتے تھے، انہوں نے یہ طریقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لیا ہے، یعنی وادیِ محسر میں سواری کو دوڑانا۔