السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: النهي عن الإسراف في الوضوء باب: وضو میں پانی کے اسراف (فضول خرچی) کی ممانعت کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " شَيْطَانُ الْوُضُوءِ يُدْعَى الْوَلَهَانُ يَضْحَكُ بِالنَّاسِ فِي الْوُضُوءِ ". وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: إِنَّ لِلْمَاءِ وَسْوَاسًا فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ. وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: فِي كُلِّ شَيْءٍ إِسْرَافٌ حَتَّى الطُّهُورِ وَإِنْ كَانَ عَلَى شَاطِئِ النَّهْرِ. هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَيُونُسَ بْنَ عُبَيْدٍ، وَخَارِجَةُ يَنْفَرِدُ بِرِوَايَتِهِ مُسْنَدًا وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الرِّوَايَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، مَرْفُوعًا يَعْنِي مَا رُوِّينَا عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ.(الف) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”وضو کا ایک شیطان ہے جس کو «وَلْهَانُ» کہا جاتا ہے“، یہ وضو میں لوگوں کو ہنساتا ہے۔
(ب) یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پانی کے لیے وسوسہ ہے، لہٰذا ”پانی کے وسوسے سے بچو۔“
(ج) ہلال بن یساف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ہر چیز میں اسراف ہے، یہاں تک کہ وضو میں بھی ہے، اگرچہ نہر کے کنارے پر ہو۔“
(د) اسی طرح خارجہ بن مصعب کے علاوہ بھی دوسروں نے حسن رحمہ اللہ اور یونس بن عبید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ خارجہ اپنی سند سے روایت کرنے میں منفرد ہے، وہ روایت کرنے میں مضبوط راوی نہیں۔ واللہ اعلم۔
یہ روایت ایک اور ضعیف سند سے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے، یعنی وہی جو ہم نے یونس بن عبید سے روایت کیا ہے۔