السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: النهي عن الإسراف في الوضوء باب: وضو میں پانی کے اسراف (فضول خرچی) کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 949
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ جَمِيلٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ ⦗٣٠٤⦘ وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ: عَنْ عُتِيِّ بْنِ ضَمْرَةَ. وَهَذَا الْحَدِيثُ مَعْلُولٌ بِرِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الْحَسَنِ، بَعْضُهُ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، وَبَاقِيهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد نے اسی طرح بیان کیا ہے (ب) اور فرمایا کہ اس کی سند میں عتی بن ضمرہ ہے اور یہ حدیث معلول ہے، ثوری کے حسن سے روایت کرنے کی وجہ سے اور اس کا بعض حصہ مرفوع نہیں اور باقی حصہ یونس بن عبید سے بھی مرفوع نہیں۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“