السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من فصل بين الصلاتين بتطوع وأكل وأذن وأقام لكل واحدة منهما باب: اس شخص کا بیان جس نے دونوں نمازوں کے درمیان نوافل پڑھ کر اور کھا کر فاصلہ کیا، اور ہر ایک کے لیے الگ اذان دی اور اقامت کہی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: حَجَّ عَبْدُ اللهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ حِينَ الْأَذَانِ بِالْعَتَمَةِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَأَمَرَ رَجُلًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَصَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ أَمَرَ أَرَى شَكَّ زُهَيْرٌ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ رَكْعَتَيْنِ وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زُهَيْرٍ وَجَعَلَ زُهَيْرٌ لَفْظَ التِّحْوِيلِ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ، ⦗١٩٨⦘ وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ.عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو ہم مزدلفہ میں عشا کی اذان کے وقت یا قریب ہی پہنچے، تو انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے اذان کہی اور اقامت کہی، پھر انہوں نے مغرب کی نماز پڑھی اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر شام کا کھانا منگوایا، پھر حکم دیا، اس نے اذان کہی اور اقامت کہی، تو انہوں نے عشا کی نماز کی دو رکعتیں ادا کیں۔
زہیر نے (نمازوں کو ان کے وقت سے) پھیرنے والے الفاظ کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے، اور ہم کتاب الصلاۃ میں عن الاسود عن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس کو بیان کر آئے ہیں کہ انھوں نے اس طرح کیا تھا۔