❮
❯
حدیث نمبر: 9498
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْوَهْبِيَّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ إِلَى مَكَّةَ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي فَسَمِعَهُ أَعْرَابِيٌّ، عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا الَّذِي يُلَبِّي فِي هَذَا الْمَكَانِ؟ فَسَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَدَدَ التُّرَابِ لَبَّيْكَ، مَا سَمِعْتُهُ قَالَهَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا ثُمَّ قَدِمْنَا جَمْعًا فَصَلَّى بِنَا الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعِشَاءَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ " يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْفَجْرَ فَمَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَّى الْفَجْرَ هَذِهِ السَّاعَةَ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى أَسْفَرَ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَفَاضَ الْآنَ لَقَدْ أَصَابَ السُّنَّةَ، فَمَا أَدْرِي أَقَولُهُ كَانَ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ؟ ثُمَّ لَمْ يَقْطَعِ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَلَمْ أُثْبِتْ عَنْهُمَا قَوْلَهُ: " تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ گیا تو وہ تلبیہ کہتے رہے، ان کو عرفہ کی رات ایک اعرابی نے سنا تو کہا: یہ کون ہے جو اس جگہ تلبیہ کہتا ہے؟ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تلبیہ کہتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: «لَبَّيْكَ عَدَدَ التُّرَابِ» ”لبیک مٹی کے ذروں کے برابر لبیک“، میں نے ان کو اس طرح سے پہلے یا بعد میں تلبیہ کہتے نہیں سنا، پھر ہم جمع پہنچے تو انھوں نے ہمیں دو نمازیں پڑھائیں، ہر ایک ایک اذان اور اقامت کے ساتھ اور ان دونوں کے درمیان شام کا کھانا کھایا، پھر جب فجر طلوع ہوئی تو فجر کی نماز پڑھائی اور کہا: یقیناً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دو نمازیں اس جگہ پر اپنے وقت سے پھر جاتی ہیں، یعنی مغرب اور فجر، لوگ مزدلفہ میں نہ آئیں حتیٰ کہ عشا کر لیں“ اور فجر کی نماز اس وقت میں پڑھائی، پھر ٹھہرے حتیٰ کہ روشنی ہو گئی، پھر فرمایا: ”اگر امیر المومنین یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اب لوٹ جائیں تو وہ سنت کو پا لیں گے۔“ مجھے علم نہیں کہ انھوں نے یہ بات پہلے کہی یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پہلے لوٹے۔ پھر تلبیہ ختم نہیں کیا حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کی رمی نحر والے دن کی۔
امام احمد (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں سے آپ کا یہ قول ”یہ دو نمازیں اپنے وقت سے پھیر دی جاتی ہیں“ میرے نزدیک ثابت نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9498
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1599۔ تحولان عنوقتها»