السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من استحب سلوك طريق المأزمين دون طريق ضب وتأخير المغرب إلى العشاء حتى يأتي المزدلفة باب: ان کا بیان جنہوں نے ضب کے راستے کے بجائے مازمین کا راستہ اختیار کرنے اور مزدلفہ پہنچنے تک مغرب کو عشاء کے وقت تک مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9489
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: ⦗١٩٥⦘ سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ؟، فَقَالَ: دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الشِّعْبِ عَدَلَ إِلَيْهِ فَنَزَلَ فَبَالَ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا فَقُلْتُ: أَلَا نُصَلِّي؟، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا وَنَزَلَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا سُبْحَةٌ.حافظ ثناء اللہ
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ جب عرفہ سے لوٹے تو انہوں نے کیسے کیا؟ تو انہوں نے کہا: عرفہ سے لوٹے حتیٰ کہ جب گھاٹی کے قریب آئے تو اس کی طرف مائل ہوئے، اترے اور پیشاب کیا، میں آپ کے پاس پانی لایا، آپ ﷺ نے ہلکا سا وضو کیا، تو میں نے کہا: کیا آپ ﷺ نے نماز نہیں پڑھنی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز تیرے آگے ہے“، پھر سوار ہوئے حتیٰ کہ جمع میں پہنچے، اترے اور نماز کے لیے وضو کیا۔ پھر مغرب کی نماز تین رکعتیں اور عشا کی نماز دو رکعتیں ادا کیں اور ان کے درمیان کوئی نوافل وغیرہ نہ پڑھے۔