السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: وقت الوقوف لإدراك الحج باب: حج پانے کے لیے وقوفِ عرفہ کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 9469
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ الشَّعِيرِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عُرْوَةُ، يَعْنِي أَبَا فَرْوَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: جِئْتُ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَتْعَبْتُ رَاحِلَتِي وَأَنْصَبْتُ نَفْسِي فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ قَالَ: " مَنْ وَقَفَ مَعَنَا بِعَرَفَةَ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ".حافظ ثناء اللہ
عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس آیا، میں نے کہا: ”میں جبل طئی سے آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو تھکایا ہے اور خود بھی تھکا ہوں، تو کیا میرا حج ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ عرفہ میں ٹھہرا اس کا حج پورا ہوگیا۔“