حدیث نمبر: 9468
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامَ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكَ النَّاسَ وَهُمْ بِجَمْعٍ فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ لَيْلًا فَأَفَاضَ مِنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى جَمْعٍ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ ⦗١٨٩⦘ أَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا، أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے دور میں حج کیا تو لوگوں کو جمع میں پایا۔ وہ رات کے وقت عرفات گئے، وہاں سے لوٹے حتیٰ کہ جمع آئے تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اپنے آپ کو اور اپنی اونٹنی کو تھکایا ہے تو کیا میرے لیے حج ہے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ صبح کی نماز پڑھی اور ہمارے ساتھ ٹھہرا حتیٰ کہ ہم واپس آئے اور اس سے پہلے عرفات میں رات کو آیا یا دن کو تو اس کا حج پورا ہو گیا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9468
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ نسائي 3041۔ ابن ماجه 3016»