السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: وقت الوقوف لإدراك الحج باب: حج پانے کے لیے وقوفِ عرفہ کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 9466
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةَ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَقَالَ: " لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنْسَكَهَا فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ واپس لوٹے اور ان پر «السَّكِينَةُ» ”سکینت“ طاری تھی، انہوں نے لوگوں کو بھی «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» ”سکون“ کا حکم دیا اور فرمایا: ”میری امت مجھ سے حج کے طریقے «لِيَأْخُذْ أُمَّتِي عَنِّي مَنَاسِكَهُمْ» سیکھ لے، مجھے علم نہیں شاید کہ میں اس سال کے بعد انہیں نہ مل سکوں۔“