حدیث نمبر: 9465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قَالَ: " كَتَبَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ أَنْ لَا يُخَالِفَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فِي أَمْرِ الْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ جَاءَهُ ⦗١٨٨⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَاحَ عِنْدَ سُرَادِقِهِ الرَّوَاحَ، فَخَرَجَ الْحَجَّاجُ إِلَيْهِ فِي مِلْحَفَةٍ مُعَصْفَرَةٍ، فَقَالَ: هَذِهِ السَّاعَةَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: انْتَظِرْنِي حَتَّى أُفِيضَ عَلَيَّ مَاءً فَدَخَلَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي فَقُلْتُ لَهُ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ السُّنَّةَ الْيَوْمَ، فَاقْصُرِ الْخُطْبَةَ وَعَجِّلِ الصَّلَاةَ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ كَيْمَا يَسْمَعَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: صَدَقَ " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ وَغَيْرِهِ، وَقَالَ: وَعَجِّلِ الْوُقُوفَ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّ إِتْيَانَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوْقِفَ كَانَ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ "، وَقَدْ قَالَ فِي رِوَايَةِ جَابِرٍ: " لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو لکھ بھیجا کہ حج کے معاملہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مخالفت نہیں کرنی، تو جب عرفہ کا دن تھا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما اس کے پاس گئے۔ جب سورج زائل ہوا تو اس کی آرام گاہ کے خیموں کے پاس چیخے تو حجاج زرد رنگ کی چادر میں نکلا اور کہا: اس وقت؟ کہا: ہاں! کہنے لگا: میرا انتظار کریں، میں پانی ڈال لوں، وہ گیا اور غسل کر کے آیا اور میرے اور میرے والد کے درمیان ہو لیا تو میں نے کہا: آج اگر تو سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے تو خطبہ مختصر دے اور جلدی نماز پڑھا، تو وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھنے لگا، تاکہ یہ بات ان سے سن لے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
(ب) صحیح بخاری میں ہے: وقوف میں جلدی کرو۔
(ج) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ موقف میں زوالِ شمس کے بعد آئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تاکہ تم اپنے مناسک کے طریقے سیکھو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9465
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1577»