السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الاستكثار من الطواف بالبيت ما دام بمكة باب: جب تک مکہ میں رہے بیت اللہ کا کثرت سے طواف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9431
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا لِي أَرَاكَ لَا تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ وَلَا تَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا؟، قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اسْتِلَامَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا " قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ طَافَ سُبُوعًا، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَلَهُ بِعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ رَفَعَ قَدَمًا وَوَضَعَ أُخْرَى كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَحَطَّ لَهُ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً " وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمَا جَمِيعًا سَمِعَاهُ الْأَبُ وَالِابْنُ.حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ صرف ان دو رکنوں کو چھوتے ہیں اور ان کے علاوہ کو نہیں؟ کہنے لگے: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”ان دونوں کو چھونا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“ کہتے ہیں اور میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے سات چکر لگائے اور دو رکعتیں ادا کیں تو اس کے لیے گردن آزاد کرانے کے برابر ثواب ہے اور جس نے ایک پاؤں اٹھایا اور دوسرا رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھے گا اور گناہ مٹائے گا اور درجہ بلند کرے گا۔“