السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المفرد والقارن يكفيهما طواف واحد وسعي واحد بعد عرفة فإن كانا قد سعيا بعد طواف القدوم اقتصرا على الطواف بالبيت بعد عرفة وتحللا باب: حجِ افراد اور حجِ قران کرنے والوں کے لیے عرفہ کے بعد ایک طواف اور ایک سعی ہی کافی ہے، پس اگر انہوں نے طوافِ قدوم کے بعد سعی کر لی تھی تو وہ عرفہ کے بعد صرف بیت اللہ کے طواف پر اکتفا کریں اور حلال ہو جائیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسٌ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " " قَالَتْ: فَقَدِمْتُ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " " قَالَتْ: فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: " " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ " " قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَمَا رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ⦗١٧٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے۔ ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہے اور پھر حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے فارغ ہو لے۔“ کہتی ہیں کہ میں آئی تو حائضہ ہو گئی۔ میں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف نہ کیا اور اس کا شکوہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے، کنگھی کر لے اور حج کا تلبیہ کہہ اور عمرہ کو چھوڑ دے۔“ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، جب ہم نے حج کر لیا تو آپ ﷺ نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم بھیجا، میں نے وہاں سے عمرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے عمرہ کی جگہ ہے۔“ کہتی ہیں: جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، انہوں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا پھر حلال ہو گئے۔ پھر منیٰ سے واپس آ کر حج کے لیے طواف کیا اور جنہوں نے حج و عمرہ کو جمع کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔