حدیث نمبر: 9386
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗١٦٥⦘ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: " لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَوَجَدَ فِيهَا حَمَامَةَ عَيْدَانٍ فَاكْتَسَرَهَا، ثُمَّ قَامَ بِهَا عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ وَأَنَا أَنْظُرُ فَرَمَى بِهَا ".حافظ ثناء اللہ
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺ اطمینان کے ساتھ فتح مکہ والے سال داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، اپنے ہاتھ کی لاٹھی سے حجر اسود کو چھوتے، پھر کعبہ کے اندر داخل ہوئے۔ اس میں لکڑی کا بنا کبوتر دیکھا تو اس کو توڑ دیا۔ پھر اس کو لے کر کعبہ کے دروازے پر آئے اور اس کو پھینک دیا اور میں دیکھ رہی تھی۔