فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو كَامِلٍ ⦗١٦٣⦘ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: فَقَالَ: " صَدَقُوا وَكَذَبُوا "، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهَزَلِ "، قَالَ: " وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ "، قَالَ: " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثًا وَيَمْشُوا أَرْبَعًا "، قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: " صَدَقُوا وَكَذَبُوا "، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ يَقُولُونَ: هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّى خَرَجْنَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ "، قَالَ: " وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ "، قَالَ: " فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ، وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ " لَفْظُ عِمْرَانَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ الْجَحْدَرِيِّ.ابوطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہا: آپ کا کیا خیال ہے کہ بیت اللہ کا طواف تین چکر رمل اور چار چل کر سنت ہے؟ آپ کی قوم تو سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ کہا ہے۔ میں نے کہا کہ سچ اور جھوٹ کہنے کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکیں گے اور وہ اس پر حسد کرتے تھے، تو ان کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”تین چکر رمل کریں اور چار چل کر لگائیں“، کہتے ہیں کہ میں نے کہا: مجھے طواف کے بارے میں بتاؤ۔ صفا مروہ کے درمیان کیا یہ سوار ہو کر کرنا سنت ہے؟ آپ کی قوم تو یہی سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ بھی، میں نے کہا: آپ کے یہ کہنے کا کیا مقصد کہ سچ اور جھوٹ کہا ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ پر لوگ زیادہ ہو گئے تھے اور کہتے تھے: یہ محمد ﷺ ہیں، حتیٰ کہ لڑکیاں بھی گھروں سے نکلیں اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے لوگوں کو ہٹایا نہ جاتا تھا۔ جب وہ زیادہ ہو گئے تو سوار ہو گئے اور چلنا اور سعی کرنا افضل ہے۔ [صحیح: مسلم: 1264]