السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: وجوب الطواف بين الصفا والمروة وأن غيره لا يجزي عنه باب: صفا اور مروہ کے درمیان طواف (سعی) کے واجب ہونے اور اس بات کا بیان کہ اس کے بدلے کوئی اور عمل کفایت نہیں کرے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ ⦗١٥٦⦘ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨]؟ فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطُوفَ بِهِمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: " كَلَّا لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ وَكَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] " الْآيَةَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: زَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ مَا أَتَمَّ اللهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا، جب کہ میں ابھی نو عمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بیشک صفا و مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر ان دونوں کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے“ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی طواف نہ بھی کرے تو اس پر بھی کوئی حرج نہیں ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہرگز ایسا نہیں ہے، اگر یہ بات ہوتی جو تو کہتا ہے تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی کہ ”اگر کوئی طواف نہ بھی کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں“، یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، وہ مناۃ کے لیے تلبیہ کہتے تھے اور مناۃ قدید کے سامنے تھا، تو اس لیے وہ صفا و مروہ کے طواف میں حرج محسوس کرتے تھے۔ تو جب اسلام آیا تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو معاویہ نے ہشام سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج اور عمرہ مکمل نہ کرے جس نے صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کیا (سعی نہ کی)۔“