السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: جواز السعي بين الصفا والمروة على غير طهارة وإن كان الأفضل أن يكون على طهارة باب: بغیر طہارت کے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے جواز کا بیان، اگرچہ افضل یہی ہے کہ طہارت کی حالت میں ہو۔
حدیث نمبر: 9356
أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ طَافَتْ بِالْبَيْتِ ثُمَّ وَجَّهَتْ، لِتَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَحَاضَتْ، فَلْتَطُفْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهِيَ حَائِضٌ وَكَذَلِكَ الَّذِي يُحْدِثُ بَعْدَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَقَبْلَ أَنْ يَسْعَى.حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فقہائے مدینہ کہا کرتے تھے کہ جو عورت بھی بیت اللہ کا طواف کر لے اور صفا و مروہ کا طواف کرنے کے لیے جائے، پھر حائضہ ہو جائے تو وہ صفا و مروہ کا طواف حالت حیض میں ہی کر لے۔