السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الخروج إلى الصفا والمروة، والسعي بينهما، والذكر عليهما باب: صفا اور مروہ کی طرف نکلنے، ان کے درمیان سعی کرنے اور ان پر ذکر کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ثنا صَدَقَةُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: هَلْ مِنْ قَوْلٍ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَلْزَمُهُ؟ قَالَ: لَا تَسْأَلْ عَنْ ذَلِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِوَاجِبٍ فَأَبَيْتُ أَنْ أَدَعَهُ حَتَّى يُخْبِرَنِي، قَالَ: كَانَ يُطِيلُ الْقِيَامَ حَتَّى لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْهُ لَجَلَسْنَا فَيُكَبِّرُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ "، ثُمَّ يَدْعُو طَوِيلًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَيَخْفِضُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْأَلُهُ أَنْ يَقْضِيَ عَنْهُ مَغْرَمَهُ فِيمَا سَأَلَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " ثُمَّ يَسْأَلُ طَوِيلًا كَذَلِكَ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي كُلِّ مَا حَجَّ وَاعْتَمَرَ ⦗١٥٤⦘.ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے کہا: ”کیا کوئی ایسی بات ہے جسے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لازم پکڑتے تھے؟“ تو انہوں نے کہا: ”آپ اس بارے میں سوال نہ کریں، یہ واجب نہیں ہے“، تو میں نے انہیں اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک انہوں نے بتا نہیں دیا، انہوں نے کہا: ”وہ بہت لمبا قیام کرتے تھے، اگر ہمیں ان سے حیا نہ ہوتی تو ہم بیٹھ جاتے، وہ تین مرتبہ تکبیر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے پھر کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے“، پھر لمبی دعا کرتے اور آواز کو کبھی بلند اور کبھی پست کرتے یہاں تک کہ وہ سوال کرتے کہ اس کی چٹی پوری کر دے جو اس نے مانگا ہے، پھر تین مرتبہ تکبیر کہتے پھر کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ۔۔۔ الخ» ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔۔۔ الخ“ پھر اسی طرح لمبی دعا کرتے حتیٰ کہ یہ عمل سات مرتبہ دہراتے۔ صفا اور مروہ پر ہر حج و عمرہ میں ایسے ہی کرتے تھے“۔