السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الخروج إلى الصفا والمروة، والسعي بينهما، والذكر عليهما باب: صفا اور مروہ کی طرف نکلنے، ان کے درمیان سعی کرنے اور ان پر ذکر کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] أبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا رَأَى الْبَيْتَ فَكَبَّرَ اللهَ وَهَلَّلَهُ، وَقَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ "، ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ وَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ رَمَلَ فِي بَطْنِ الْوَادِي حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى كَانَ آخِرُ الطَّوَافِ عَلَى الْمَرْوَةِ ⦗١٥٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ دُونَ قَوْلِهِ: " يُحْيِي وَيُمِيتُ ".سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دروازے سے صفا کی طرف نکلے حتیٰ کہ جب صفا کے قریب ہوئے تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“، ”میں وہیں سے شروع کروں گا جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے“، آپ ﷺ نے صفا سے شروع کیا اس پر چڑھے حتیٰ کہ جب بیت اللہ کو دیکھا تو تکبیر و تہلیل کہی اور فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ کے علاوہ اور کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے حمد ہے اور اسی کے لیے بادشاہی ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے نے ہی تمام لشکروں کو شکست دی“۔ پھر اس کے درمیان دعا کی اور اس طرح تین مرتبہ کیا، پھر مروہ کی طرف آئے حتیٰ کہ جب آپ ﷺ کے پاؤں وادی میں لگے تو آپ ﷺ نے سعی کی حتیٰ کہ جب چڑھنے کو چلے اور مروہ پر آئے تو مروہ پر بھی ویسے ہی کیا جس طرح صفا پر کیا تھا، حتیٰ کہ طواف کا آخر مروہ پر تھا۔