السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من ركع ركعتي الطواف حيث كان باب: ان کا بیان جنہوں نے طواف کی دو رکعتیں جہاں جگہ ملی وہیں پڑھ لیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ ⦗١٤٩⦘ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَافَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ بِالْكَعْبَةِ فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَوَافَهُ نَظَرَ فَلَمْ يَرَ الشَّمْسَ، فَرَكِبَ حَتَّى نَاخَ بِذِي طُوًى فَسَبَّحَ رَكْعَتَيْنِ ".(الف) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا طواف کیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا طواف مکمل کر لیا تو دیکھا، لیکن سورج نظر نہ آیا تو سوار ہوئے حتیٰ کہ ذی طوی میں سواری کو بٹھایا اور دو رکعتیں ادا کیں۔
(ب) ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز عصر کے بعد طواف کرتے تھے، پھر اپنے حجرے میں داخل ہو جاتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ حجرے میں کیا کام کرتے تھے۔
(ج) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے روایت ہے کہ انہوں نے ان دونوں کو نماز عصر کے بعد پڑھا۔