❮
❯
حدیث نمبر: 9318
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ، فَأُدْخِلُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ، وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ فَبَلَغْتُ بِهِ بُنْيَانَ إِبْرَاهِيمَ " قَالَ: وَذَلِكَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى هَدْمِهِ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ: وَقَدْ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدْمَهُ وَأَدْخَلَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ، وَقَدْ رَأَيْتُ بُنْيَانَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِجَارَةً كَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ مُتَلَاحِمَةً أَوْ قَالَ: مُتَلَاحِكَةً، قَالَ جَرِيرٌ: فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ مَوْضِعُهُ؟ قَالَ: أُرِيَكُمُ الْآنَ، فَأَدْخَلَنِي الْحِجْرَ، فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ، فَقَالَ: هَا هُنَا، قَالَ جَرِيرٌ فَحَزَرْتُ مِنَ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ بَيَانِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ. وَرَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ جُرَيْجٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ. وَكَأَنَّ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ وَعُرْوَةَ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری قوم جاہلیت کے ساتھ قریبی دور والی نہ ہوتی تو میں بیت اللہ کے بارے میں حکم دیتا، اس کو گرایا جاتا اور جو حصہ اس سے خارج کیا گیا اس کو اس میں داخل کیا جاتا اور میں اس کو زمین کے ساتھ ملا دیتا اور دو دروازے رکھتا، ایک مشرقی اور ایک مغربی، وہ اس کو تعمیر کرنے سے عاجز آ گئے تھے تو میں اس کو ابراہیم کی بنیادوں تک پہنچا دیتا۔“
راوی کہتے ہیں: یہی وہ بات تھی جس نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو اسے گرانے پر آمادہ کیا۔ یزید بن رومان کہتے ہیں: میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا جب انہوں نے اسے گرایا اور حطیم (حِجر) کا کچھ حصہ اس میں داخل کیا، اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیادیں دیکھیں، اونٹوں کی کوہانوں جیسے پتھر تھے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ جریر کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: اس کی جگہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: میں ابھی تمہیں دکھاتا ہوں، چنانچہ وہ مجھے حطیم میں لے گئے اور ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے کہا: یہاں۔ جریر کہتے ہیں: میں نے اندازہ لگایا تو وہ حطیم میں سے چھ ذراع یا اس کے قریب تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9318
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1509»