أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ ⦗١٤٥⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هِيَ؟، قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: فَمَا لَهُمْ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ قَوْمَكِ قَصُرَتْ بِهُمُ النَّفَقَةُ " قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعٌ؟، قَالَ: " فَعَلَ ذَلِكَ قَوْمُكِ؛ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ، وَأَنْ أُلْصِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا دیوار بیت اللہ میں سے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں!“ میں نے کہا: کیا وجہ ہے انہوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری قوم کے پاس خرچہ کم ہو گیا تھا“، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ اس کا دروازہ اونچا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری قوم نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ جس کو چاہیں اندر داخل ہونے دیں اور جس کو چاہیں روک لیں اور اگر تیری قوم جاہلیت کے ساتھ تازہ تعلق والی نہ ہوتی اور ان کے دلوں میں برائی کا خوف نہ ہوتا تو میرا خیال تھا کہ دیوار کو بیت اللہ میں داخل کر دیا جائے اور اس کا دروازہ زمین کے ساتھ لگا دیا جائے۔“