حدیث نمبر: 9285
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ لَمْ يَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى وَكَانَ لَا يَسْعَى إِذَا طَافَ حَوْلَ الْبَيْتِ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ فِي قَوْلِهِ: لَا يَسْعَى: يَعْنِي لَا يَرْمُلُ، قَالَ: وَمَنْ أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ أَوْ طَافَ قَبْلَ مِنًى، ثُمَّ طَافَ يَوْمَ النَّحْرِ لَمْ يَرْمُلْ إِنَّمَا يَرْمُلُ مَنْ كَانَ ابْتِدَاءُ طَوَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ

نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ سے احرام باندھتے تو بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف نہ کرتے حتیٰ کہ منیٰ سے واپس آتے اور جب مکہ سے احرام باندھتے تو بیت اللہ کے طواف میں سعی نہ کرتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اس قول کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ سعی نہیں کرے گا، یعنی رمل نہیں کرے گا جس نے مکہ سے احرام باندھا یا منیٰ سے پہلے طواف کیا، پھر یومِ نحر کو طواف کیا وہ رمل نہیں کرے گا۔ رمل ابتدائی طواف میں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9285
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك 814»