حدیث نمبر: 9274
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَا: ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَّنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا قَوْمٌ قَدْ وَهَّنَتْهُمُ الْحُمَّى، وَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَجَلَسُوا مِمَّا يَلِي الْحِجْرَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ وَيَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ؛ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَّنَتْهُمْ، هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَمْ يَمْنَعْهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ آئے جب کہ انہیں یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا تھا۔ مشرکوں نے کہا: ”کل تمہارے پاس ایسی قوم آ رہی ہے جن کو یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا ہے اور انہوں نے بڑی سختی کاٹی ہے۔“ تو وہ حجر اسود والی طرف بیٹھ گئے، تو ان کو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ وہ تین چکر رمل کریں اور رکنوں کے درمیان چلیں تاکہ مشرک ان کی قوت جان لیں، تو مشرکوں نے کہا: ”یہ وہ ہیں جن کے بارے میں تم سمجھتے تھے کہ ان کو یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا ہے، یہ تو فلاں فلاں سے زیادہ قوی ہیں!“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان کو نبی ﷺ نے پورا چکر رمل کرنے کا اس لیے فرمایا تاکہ ان پر نرمی کریں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9274
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»