حدیث نمبر: 9273
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ، وَهَّنَتْهُمُ الْحُمَّى حُمَّى يَثْرِبَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَّنَتْهُمُ الْحُمَّى، فَقَعَدُوا لَهُمْ مِمَّا يَلِي الْحِجْرَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا الثَّلَاثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، قَالَ: وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ " لَمْ يَذْكُرْ أَبُو مُسْلِمٍ حُمَّى يَثْرِبَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی مکہ آئے اور انہیں یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا تھا، تو مشرکوں نے کہا کہ تمہارے پاس ایسی قوم آ رہی ہے جس کو یثرب کے بخار نے کمزور کر رکھا ہے، تو وہ ان کو دیکھنے کے لیے پتھر کی طرف بیٹھ گئے، تو ان کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ: ”وہ تین چکر دوڑ کر لگائیں اور دو رکنوں کے درمیان آہستہ چلیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9273
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1525۔ مسلم 1366»