حدیث نمبر: 9260
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا لِي رَأَيْتُكَ تُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِمَا غَيْرَكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَسْحُهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا ".
حافظ ثناء اللہ

عبید بن عمیر لیثی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں، آپ ان دونوں رکنوں پر بھیڑ کرتے ہیں، میں نے آپ کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی اور کو ان پر رش کرتے نہیں دیکھا؟ تو کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ”ان کو چھونا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9260
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ترمذي 909۔ احمد 2/3»