السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: استحباب الاستلام في كل طوفة وإلا ففي كل وتر باب: ہر چکر میں استلام کے مستحب ہونے کا بیان، اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو ہر طاق چکر میں۔
حدیث نمبر: 9259
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادٌ هُوَ ابْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ ⦗١٣٠⦘ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فِي كُلِّ طَوْفَةٍ مَرَّ بِهِمَا الْأَسْوَدَ وَالْيَمَانِيَّ يَسْتَلِمُهُمَا وَلَا يَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ عِنْدَ الْحَجَرِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ان دو رکنوں، رکن یمانی اور حجر اسود کو ہر طواف میں نہیں چھوڑتے تھے، ان دونوں کا استلام کرتے اور ان دو کو نہ چھوتے تھے جو حجر (پتھر) کے پاس ہیں۔