حدیث نمبر: 9222
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ "، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إنْ زُحِمْتُ؟ أَرَأَيْتَ إنْ غُلِبْتُ؟ قَالَ: " اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے حجر اسود کو چھونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ اس کو چھوتے اور بوسہ دیتے تھے، تو اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے بھیڑ ہو جائے اور میں مغلوب ہو جاؤں؟ تو انہوں نے فرمایا: اس خیال کو یمن میں ہی رہنے دے، میں نے نبی ﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔