السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: لبس المحرم وطيبه، جاهلا أو ناسيا لإحرامه باب: محرم کا اپنے احرام سے ناواقف ہو کر یا بھول کر (سلے ہوئے کپڑے) پہننا اور خوشبو لگانا۔
حدیث نمبر: 9100
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُرِيَنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، فَبَيْنَا نَحْنُ مَعَهُ فِي سَفَرٍ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَإِنَّ النَّاسَ يَسْخَرُونَ مِنِّي، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ " فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ: " انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ هَذِهِ وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ إِذَا أَحْرَمْتَ، فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ " قَصُرَ عَبْدُ الْمَلِكِ بِإِسْنَادِهِ فَلَمْ يَذْكُرْ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ جب نبی ﷺ پر قرآن نازل ہو رہا ہو تو مجھے دکھانا، ایک مرتبہ ہم سفر میں تھے کہ ایک آدمی زعفران لگے جبہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”میں عمرہ کا ارادہ رکھتا ہوں اور لوگ مجھ سے مذاق کرتے ہیں“ تو نبی ﷺ خاموش ہو گئے اور آپ پر وحی نازل ہوئی (انہوں نے ساری حدیث ذکر کی) پھر فرمایا: ”وہ سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ تو آدمی کھڑا ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے سے یہ جبہ اتار اور حج کا احرام باندھ کے جو کرتا ہے وہی عمرہ میں کر۔“