السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: لبس المحرم وطيبه، جاهلا أو ناسيا لإحرامه باب: محرم کا اپنے احرام سے ناواقف ہو کر یا بھول کر (سلے ہوئے کپڑے) پہننا اور خوشبو لگانا۔
حدیث نمبر: 9099
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَأَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ، يَعْنِي جُبَّةً، وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ: إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ، وَعَلَيَّ هَذَا وَأَنَا مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ؟ " قَالَ: أَنْزِعُ عَنِّي هَذِهِ الثِّيَابَ وَأَغْسِلُ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَرَبَاحِ بْنِ أَبِي مَعْرُوفٍ عَنْ عَطَاءٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص خلوق لگا جبہ پہن کر نبی ﷺ کے پاس جعرانہ میں پہنچا اور میں بھی وہیں موجود تھا۔ وہ کہنے لگا: میں نے عمرہ کی نیت کی ہے اور میں نے یہ خلوق والا جبہ پہنا ہوا ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو حج میں کیا کرے گا؟“ اس نے کہا: میں یہ کپڑے اتاروں گا اور خلوق دھو ڈالوں گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کام تو حج میں کرتا ہے وہ عمرہ میں بھی کر۔“