السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: لبس المحرم وطيبه، جاهلا أو ناسيا لإحرامه باب: محرم کا اپنے احرام سے ناواقف ہو کر یا بھول کر (سلے ہوئے کپڑے) پہننا اور خوشبو لگانا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْخَلُوقِ قَالَ هَمَّامٌ: أَوْ قَالَ أَثَرُ الصُّفْرَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسُتِرَ بِثَوْبٍ، قَالَ: وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ: وَدِدْتُ لَوْ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ قَالَ: فَقَالُ عُمَرُ: أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَفَعَ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَلَهُ غَطِيطٌ، - قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسَبُهُ كَغَطِيطِ الْبَكْرِ -، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الْخَلُوقِ، أَوْ قَالَ: أَثَرَ الصُّفْرَةِ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ ".یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جب کہ آپ ﷺ جعرانہ میں تھے اور اس نے جبہ پہنا ہوا تھا جس پر خلوق کے نشانات تھے، اس نے کہا: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں عمرہ میں کیسے کروں؟ تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی۔ یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بڑا شوق تھا کہ میں آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی دیکھوں تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تو نبی کریم ﷺ پر وحی اترتی دیکھنا چاہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے ایک جانب سے کپڑا اٹھایا تو میں نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا اور آپ ﷺ کی کچھ آواز نکل رہی تھی۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ عمرہ کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ وہ اس جبہ کو اتار دے اور خلوق کے اثرات کو دھو ڈال اور عمرہ میں ویسے ہی کر جیسے تو حج میں کرتا ہے۔“