حدیث نمبر: 9096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَعْقِلٍ، يَقُولُ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] قَالَ: حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُمَّلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: " مَا كُنْتُ أَرَى الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ هَذَا، أَفَتَجِدُ شَاةً؟ " فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، وَاحْلِقْ رَأْسَكَ " قَالَ كَعْبٌ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ. وَرَوَاهُ أَشْعَثُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: " أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد کوفہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، میں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس اٹھا کر لے جایا گیا، جب کہ جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں تھا کہ تجھے اس قدر تکلیف ہے، کیا بکری مل جائے گی؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھ یا چھ مساکین کو کھانا کھلا، ہر مسکین کو آدھا صاع اور اپنا سر منڈوالے“، کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی اور اب وہ تم سب کے لیے عام ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9096
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 4245۔ مسلم 1201»