حدیث نمبر: 9025
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَامَ عَلَى الشِّقِّ الَّذِي عَلَى الصَّفَا فَلَبَّى، فَقُلْتُ: إِنِّي نُهِيتُ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فَقَالَ: " وَلَكِنِّي آمُرُكَ بِهَا كَانَتِ التَّلْبِيَةُ اسْتِجَابَةً اسْتَجَابَهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صفا والی جانب کھڑے ہوئے اور انہوں نے تلبیہ کہا تو مسروق رحمہ اللہ نے کہا: مجھے تلبیہ سے منع کیا گیا ہے تو انہوں نے فرمایا: لیکن میں تجھ کو اس کا حکم دیتا ہوں، تلبیہ دعائے مستجاب تھی جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے قبول کی گئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9025
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»