السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: في فضل الجنب باب: جنبی کے بچے ہوئے پانی کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 902
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا ابْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهَا أَوْ يَغْتَسِلَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يَجْنُبُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی کسی بیوی نے ٹپ میں غسل کیا، آپ ﷺ تشریف لائے تاکہ اس سے وضو یا غسل کریں، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی ناپاک نہیں ہوتا۔“