السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من مر بالميقات يريد حجا، أو عمرة فجاوزه غير محرم، ثم أحرم دونه باب: اس شخص کا بیان جو حج یا عمرے کے ارادے سے میقات سے گزرے، پس وہ بغیر احرام کے اس سے آگے بڑھ جائے اور پھر میقات کے اندر سے احرام باندھے۔
حدیث نمبر: 8924
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرُدُّ مَنْ جَاوَزَ الْمَوَاقِيتَ غَيْرَ مُحْرِمٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوشعثاء نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں کو واپس بھیجتے تھے جو میقات سے بغیر احرام کے گزر جاتے تھے۔