السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من مر بالميقات لا يريد حجا ولا عمرة، ثم بدا له باب: اس شخص کا بیان جو میقات سے اس حال میں گزرے کہ وہ حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتا ہو، پھر اسے (حج یا عمرے کا) خیال آ جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَهَلَّ مِنَ الْفُرْعِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ مَرَّ بِمِيقَاتِهِ لَمْ يُرِدْ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً، ثُمَّ بَدَا لَهُ مِنَ الْفُرْعِ فَأَهَلَّ مِنْهَا أَوْ جَاءَ الْفُرْعَ مِنْ مَكَّةَ أَوْ غَيْرِهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ الْإِهْلَالُ فَأَهَلَّ مِنْهَا، وَهُوَ رَوَى الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوَاقِيتِ.(الف) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ”فرع“ سے تلبیہ کا آغاز فرمایا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارا مذہب یہ ہے کہ وہ اپنے میقات سے گزرے تو حج اور عمرہ کو نہیں لوٹائے گا، پھر اس کو فرع جگہ پر معلوم ہوا تو وہاں سے تلبیہ پکارا، مکہ سے فرع آیا، یا مکہ کے علاوہ کہیں اور سے ہو اسے میقات کا معلوم ہوا تو اس نے وہاں سے تلبیہ پکارا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بات ہمارے نزدیک یوں ہے (واللہ اعلم) کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میقات پر سے گزرے تو ان کا حج یا عمرہ کا کوئی ارادہ نہ تھا، پھر جب فرع پہنچے تو ان کا ارادہ بن گیا تو انہوں نے وہیں سے تلبیہ کا آغاز کر دیا اور یہ خود ہی مواقیت والی حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔