السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من مر بالميقات لا يريد حجا ولا عمرة، ثم بدا له باب: اس شخص کا بیان جو میقات سے اس حال میں گزرے کہ وہ حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتا ہو، پھر اسے (حج یا عمرے کا) خیال آ جائے۔
حدیث نمبر: 8923
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَهَلَّ مِنَ الْفُرْعِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ مَرَّ بِمِيقَاتِهِ لَمْ يُرِدْ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً، ثُمَّ بَدَا لَهُ مِنَ الْفُرْعِ فَأَهَلَّ مِنْهَا أَوْ جَاءَ الْفُرْعَ مِنْ مَكَّةَ أَوْ غَيْرِهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ الْإِهْلَالُ فَأَهَلَّ مِنْهَا، وَهُوَ رَوَى الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوَاقِيتِ.حافظ ثناء اللہ
(الف) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ”فرع“ سے تلبیہ کا آغاز فرمایا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بات ہمارے نزدیک یوں ہے (واللہ اعلم) کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میقات پر سے گزرے تو ان کا حج یا عمرہ کا کوئی ارادہ نہ تھا، پھر جب فرع پہنچے تو ان کا ارادہ بن گیا تو انہوں نے وہیں سے تلبیہ کا آغاز کر دیا، یا وہ مکہ یا کسی اور جگہ سے فرع آئے، پھر ان کا احرام کا ارادہ بنا تو انہوں نے وہیں سے تلبیہ کہا، اور یہ خود ہی مواقیت والی حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔