السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار التمتع بالعمرة إلى الحج، وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان متمتعا، أو تأسف عليه، ولا يتأسف إلا على ما هو أفضل باب: ان کا بیان جنہوں نے عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ متمتع تھے، یا آپ ﷺ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا، اور افسوس صرف اسی چیز پر کیا جاتا ہے جو زیادہ افضل ہو۔
حدیث نمبر: 8855
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ ابْنِ الْخُرَاسَانِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ غُنَيْمَ بْنَ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَقَالَ: " قَدْ فَعَلْنَاهَا، وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعَرْشِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، عَنْ رَوْحٍ، وَأَرَادَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ بِمَا قَالَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَرَادَ بِالْعَرْشِ بُيُوتَ مَكَّةَ وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي رِوَايَةِ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ عَنِ التَّيْمِيِّ.حافظ ثناء اللہ
غنیم بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے حجِ تمتع کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے یہ کام کیا ہے اور یہ (شخص) ان دنوں عرش میں کافر تھا۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی اس (شخص) سے مراد سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہیں اور عرش سے مراد مکہ کے گھر ہیں۔