السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار التمتع بالعمرة إلى الحج، وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان متمتعا، أو تأسف عليه، ولا يتأسف إلا على ما هو أفضل باب: ان کا بیان جنہوں نے عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ متمتع تھے، یا آپ ﷺ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا، اور افسوس صرف اسی چیز پر کیا جاتا ہے جو زیادہ افضل ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ حدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَاكَ بْنَ قَيْسٍ، عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: " بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي "، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَنْهَى عَنْها، فَقَالَ سَعْدٌ: " قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الرِّوَايَاتِ الثَّابِتَاتِ عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَدْ فَعَلْنَاهَا لَيْسَ فِيهَا ذِكْرُ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل نے سیدنا سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ والے حج کے سال باتیں کرتے ہوئے سنا اور وہ تمتع کا ذکر کر رہے تھے، تو ضحاک نے کہا: یہ کام تو وہی کر سکتا ہے جو اللہ کے حکم سے غافل ہو، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! تو نے بہت بری بات کہی ہے، تو ضحاک نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تو حجِ تمتع سے منع کیا کرتے تھے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کام رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے اور ہم نے بھی ان کے ساتھ کیا ہے۔
اس روایت میں اسی طرح ہے کہ ”یہ کام رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے“، جبکہ اس حدیث میں غنیم بن قیس کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے ثابت شدہ روایات میں ”ہم نے یہ کام کیا ہے“ کے الفاظ ہیں، ان میں نبی ﷺ کے عمل کا ذکر نہیں ہے۔ واللہ اعلم