السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يدل على أن النبي صلى الله عليه وسلم أحرم إحراما مطلقا ينتظر القضاء، ثم أمر بإفراد الحج، ومضى في الحج باب: اس بات کی دلیل کہ نبی ﷺ نے مطلق احرام باندھا اور حکمِ الٰہی کے منتظر رہے، پھر آپ ﷺ نے حجِ افراد کا حکم دیا، اور خود بھی حجِ افراد ادا فرمایا۔
حدیث نمبر: 8821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ هَارُونَ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ صَدَقَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ يَعْنِي وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، فَقِيلَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ " قَالَ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: وَاللهِ أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ذوالقعدہ کی پچیس تاریخ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمارا ارادہ صرف حج کا ہی تھا، حتیٰ کہ ہم مکہ کے قریب ہوئے تو جن کے پاس قربانی نہیں تھی، ان کو رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرنے کے بعد حلال ہونے کا حکم دے دیا، فرماتی ہیں کہ جب قربانی کا دن تھا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ تو کہا گیا: ”رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ذبح کی ہے۔“