السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار الإفراد ورآه أفضل باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ افراد کو اختیار کیا اور اسے زیادہ افضل سمجھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حدَّثَنِي أَبِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ نَحوَهُ، وَزَادَ وَأَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَاضَتْ، فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا طَهُرَتْ طَافَتْ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ؟، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحَجَّةِ.جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سفرِ حج کے دوران سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں تو انہوں نے تمام تر مناسکِ حج ادا کیے، لیکن بیت اللہ کا طواف نہ کیا، تو جب وہ پاک ہوئیں تو پھر طواف کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ تو حج و عمرہ دونوں ادا کر کے جائیں اور میں صرف حج ہی کر کے جاؤں؟ تو آپ ﷺ نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسے لے کر تنعیم جائے، تو آپ نے حج کے بعد ذوالحجہ میں ہی عمرہ کیا اور سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ جمرہ عقبہ کے پاس رسول اللہ ﷺ کو ملے اور پوچھا کہ کیا یہ آپ کے لیے خاص ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“