السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار الإفراد ورآه أفضل باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ افراد کو اختیار کیا اور اسے زیادہ افضل سمجھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا حَبِيبٌ، يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنْ عَطَاءٍ، حدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً يَطُوفُوا، ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالُوا: نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُنَا يَقْطُرُ، فَبَلَغَ ⦗٦⦘ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ ".سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے حج کا تلبیہ کہا اور ان دنوں آپ ﷺ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کے پاس قربانی نہیں تھی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، ان کے پاس بھی قربانی تھی تو انہوں نے کہا: میں بھی وہی تلبیہ کہتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے کہا اور آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس کو عمرہ بنا لیں، طواف کریں، بال کٹوائیں اور حلال ہو جائیں مگر جس کے پاس قربانی ہے۔ انہوں نے کہا: کیا ہم منیٰ جائیں گے اور ہمارے ذکر قطرے ٹپکا رہے ہوں گے؟ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا اور اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا۔“