السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: العمرة قبل الحج والحج قبل العمرة باب: حج سے پہلے عمرہ اور عمرے سے پہلے حج کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ فَبَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَنْ كَانَ صَرُورَةً فَلَا يَصِحُّ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشْفَيْكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ ".ابوعمران سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اپنے موالی کے ساتھ حج کیا تو میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: کیا میں حج سے پہلے عمرہ کر لوں؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر تم چاہو تو کر لو اور اگر چاہو تو حج کے بعد عمرہ کر لینا، تو میں نے کہا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ جس نے حج نہ کیا ہو اس کے لیے صبح سے پہلے عمرہ کرنا جائز نہیں ہے، پھر میں نے امہات المومنین رضی اللہ عنہن سے پوچھا، انہوں نے بھی وہی بات کہی جو انہوں نے کہی تھی، میں ان کے پاس آیا اور انہیں خبر دی تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے آلِ محمد! حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ کہو۔“