حدیث نمبر: 8783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، الْمَعْنَى قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ: كُنْتُ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ عَشِيرَتِي يُقَالُ لَهُ هُذَيْمُ بْنُ ثُرْمُلَةَ فَقُلْتُ: يَا هَنَاهُ إِنِّي حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَكَيْفَ لِي بِأَنْ أَجْمَعَهُمَا؟ فَقَالَ: اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا فَلَمَّا أَتَيْتُ الْعُذَيْبَ لَقِيَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا مَعًا فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ ذَلِكَ، فَكَأَنَّمَا أُلْقِيَ عَلَيَّ جَبَلٌ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا وَإِنِّي أَسْلَمْتُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي فَقَالَ اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، وَإِنِّي أَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سبی بن معبد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک بدوی نصرانی آدمی تھا، جب میں مسلمان ہوا تو اپنے قبیلہ کے ایک آدمی کے پاس آیا جس کا نام ثرملہ تھا، میں نے اس سے کہا کہ مجھے جہاد کا شوق ہے اور مجھ پر حج و عمرہ بھی فرض ہے تو کیوں نہ میں دونوں کو جمع کر لوں؟ تو اس نے کہا: دونوں کو جمع کر لے اور جو قربانی تجھے میسر آتی ہے وہ کر لے، چنانچہ میں نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا، اور جب میں (عذیب) مقام پر پہنچا تو مجھے سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما ملے اور میں حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہہ رہا تھا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”یہ تو اپنے اس اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے“، تو گویا مجھ پر پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ حتیٰ کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان سے عرض کی: اے امیر المؤمنین! میں ایک دیہاتی نصرانی آدمی تھا، پھر مسلمان ہو گیا ہوں اور میں جہاد کا شوقین ہوں اور حج و عمرہ کو میں نے اپنے آپ پر فرض پایا ہے تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی کے پاس گیا تو اس نے مجھے کہا کہ دونوں کو جمع کر لے اور جو قربانی میسر آئے اسے ذبح کر لینا، اور میں نے ان دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں تمہارے نبی ﷺ کی سنت کی ہدایت دے دی گئی ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8783
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»