السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: القارن يهريق دما باب: حجِ قران کرنے والا قربانی کا جانور ذبح کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، قَالَ وَأنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ إِسْحَاقُ أنبأ وَقَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"" قَالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلْتُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي؟ فَقَالَ: "" انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْشِطِي وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ"" فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَكْتُ عَنْهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، وَإِنَّمَا أَمَرَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ ⦗٥٧٦⦘ عَنْهَا بِذَلِكَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهَا هَدْيٌ خَوْفًا مِنْ فَوَاتِ حَجَّتِهَا ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ أَزْوَاجِهِ الْبَقَرَ، وَحَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ يَقْطَعُ بِكَوْنِهَا قَارِنَةً وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال نبی ﷺ کے ساتھ نکلے تو میں نے عمرہ کا تلبیہ کہا اور میں قربانی نہیں لے کر آئی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ بھی کہے اور پھر اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک وہ دونوں سے فارغ نہیں ہوجاتا۔“ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی تو جب عرفہ کی رات آئی میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے تو عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، اب میں حج کا کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے اور کنگھی کرلے اور عمرہ سے رک جا اور حج کا تلبیہ کہہ۔“ تو جب میں نے حج کرلیا تو عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا، انہوں نے مجھے اس عمرے کے بدلے جس سے میں روک دی گئی تھی تنعیم سے عمرہ کروایا۔
(ب) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ نے حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ پکارنے کا حکم انہیں دیا جن کے پاس قربانی تھی، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حج کا حکم دیا، کیونکہ ان کے پاس قربانی نہیں تھی اس ڈر سے کہ کہیں ان کا حج فوت نہ ہوجائے، پھر آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔